اخلاق احمد آہن کی دس غزلیں


اخلاق احمد آہن کی دس غزلیں

غزل

دیکھوں، سنوں، جو بات میں، ہر جا سُمِ دُروغ

میخانہ ہو کہ خانہ مِرا، ہے خُمِ دروغ

جس انقلابِ دہر کے مسحورِ دام ہو

ہوگے جو نکتہ بیں تو ہے اس میں دُمِ دروغ

جو مدعی ہیں، شارحِ ایمان و آگہی

ان کے شروح و بحث میں پنہاں اُمِ دروغ

زعمِ تقا حجابِ تظاہر نفاق کا

ہر جا رقم ہے اس میں بھی اذنِ و قُمِ دروغ

اے ابنِ آدمیت و انسانیت، شعور!

کارِ خرد یہ ہے کہ نہ مانے گُمِ دروغ

—————————————

غزل

مآلِ شب میں کوئی قصّہ پھر سناؤ نا

سماعتوں میں وہ رس گھول کر پلاؤ نا

ظہورِ ذات تو محدود، چشم و مژگاں تک

کبھی حجاب نشینی سے چل کے آؤ نا

زمینِ دل پہ تپش ہجر کی ہے برسوں سے

وجودِ تشنہ پہ ہر سٗو تڑپ بجھاؤ نا

مرے خیال و تصوّر میں منعکس سب کچھ

چھپا تو کچھ بھی نہیں، پھر بھی کچھ چھپاؤ نا

قریب ہو کے بھی ہیں ہجر کی ہی سوغاتیں

ستم جہاں کے ہی کم کیا، تم اب ستاؤ نا

جہاں میں کون جو واقف نہیں ترے غم سے

ذرا سا پاس رکھو، سب الم دکھاؤ نا

کہاں وہ آہنِ گم گشتۂ شبِ تیرہ

سحرزدوں سے کہو پردہ اب اٹھاؤ نا

—————————————

غزل

اس طرح انتظار کھینچے ہے

جیسے اب جاں سے تار کھینچے ہے

کون کھینچے ہے اب مِرے دل کو

ایک دنیا بہ کار کھینچے ہے

وہ حسیں رو ہے اور دل عاشق

دید کو بار بار کھینچے ہے

جانتے ہیں کہ دام ہے پھر بھی

گل رخِ مشکبار کھینچے ہے

آ بھی جاتا ہوں بے رخی سے تنگ

پھر وہی اِضطرار کھینچے ہے

آہنِ دل فدا کا کیا کہئے

ہر گُلِ گل عذار کھینچے ہے

—————————————

غزل

کون مہمانِ چشم و مژگاں ہے

کس کا چہرہ نظر میں رقصاں ہے

ہے عجب لذّتِ ستم رانی

ماتم و شور میں بھی خنداں ہے

شادمانی، سراب کا ہمسر

دشتِ دولت میں ہوش، گریاں ہے

تیرتی نیند میری آنکھوں میں

غرق و مخمورِ چشمِ جاناں ہے

ہر طرف وحشتیں مچا کر اب

شیخِ فتنہ جنوں پہ شاداں ہے

عالمِ بے حسی ترے دل کی

دیکھ کر قلب و جان بریاں ہے

آہنِ دل جلا سے مت پوچھو

ذوقِ بزمِ گذشتہ پایاں ہے

—————————————

غزل

جنوں کے شور کا، طغیان کا، نہ ہم سے پوچھ

فُسوں کے وجد کا، نسیان کا، نہ ہم سے پوچھ

بہت کھلائے ہیں گل ہم نے باغ میں، پھر بھی

ہے پوچھنا دلِ ویران کا، نہ ہم سے پوچھ

جنھیں کہانی بنانی ہے وہ بنائیں گے

حصص کہانی میں بہتان کا، نہ ہم سے پوچھ

رہا ہو جو کبھی جانِ حریمِ ناز یہاں

وہ ملتجی بنے دربان کا، نہ ہم سے پوچھ

تعلقات نبھائے بہت ہیں یاں لیکن

خیال، جان کا پہچان کا، نہ ہم سے پوچھ

کبھی تھی محفلِ میخانہ جن سے تابندہ

خرابیٔ خُمِ مستان کا، نہ ہم سے پوچھ

—————————————

غزل

میں جو ہوں مستِ خرابات تمھیں اس سے کیا؟

میرے دل کی ہیں حکایات تمھیں اس سے کیا؟

تم تو ہو مستِ مئے و عیش و طرب، تم جانو

میں اسیرِ غمِ آفات تمھیں اس سے کیا؟

پاکبازی میں تمھارا ہے یہ تر دامَن خوب

میں کہوں اپنی حکایات تمھیں اس سے کیا؟

جبر ہے کام تمھارا کرو جتنا چاہو

میری اپنی ہیں شکایات تمھیں اس سے کیا؟

تم شَبِ تیرہ میں ہوتے ہو اسیرِ ظلمت

میرے روشن ہیں خرافات تمھیں اس سے کیا؟

سینہ پتھر ہے تمھارا تو ہیں آنکھیں جھوٹی

میں مجسم جو ہوں جذبات تمھیں اس سے کیا؟

صحنۂ حسن میں اٹھلائے ہوئے پھرتے ہو

عشق کے اپنے ہیں صدمات تمھیں اس سے کیا؟

—————————————

غزل

وہ پری رو اس قدر شعلہ فشاں ہے بزم میں

دل نہیں، خود آتشِ طاقِ فروزاں جل گیا

ہائے! ہم جلتے رہے یوں مدتوں تیرے جلو

تو بوجہِ جنبشِ بیتابِ تاباں جل گیا

جانتا ہوں، ہے مقدر فرقت و غم ہر گھڑی

تیری بزمِ ناز میں پروانہ گریاں جل گیا

جل رہے ہیں روز و شب، شام و سحر، صدیاں ہوئیں

دیکھتے ہی دیکھتے سب نقشِ جاناں جل گیا

کوئی جلتا ہے تماشا بن کے اس کی بزم میں

میں غریبِ شہر تھا، پنہاں کا پنہاں جل گیا

کیا ہے قیدِ با مشقت، کیا رہائی، کیا سزا؟

یہ وجودِ بے زباں تھا، پا بجولاں جل گیا

ہے سکوتِ دل گرفتہ ہر طرف چھایا ہوا

جب سے نازِ میرِ جاناں، شوقِ رقصاں جل گیا

جب یہ پوچھا: سادہ لوحوں پر ہے کیوں ظلم و ستم؟

مسکرایا وہ ستم گر، دل کا ساماں جل گیا

عشق کی دنیا ہے خاموشی سے جلنا دم بہ دم

وہ سراپا شور و غوغا، دیکھ سوزاں جل گیا

ہائے یہ جلنا ہی کیا قسمت مری چاروں پہر؟

میں دمِ بیم و رجا، مغلوبِ ہجراں جل گیا

ہیں ترے دامن میں پنہاں، سیکڑوں خوابوں کے قتل

اور اک مظلوم وہ تھا، گل بہ داماں جل گیا

ہائے اب آہن کی دنیا، پھر اجڑ کر رہ گئی

پھر یہ شادابی جہاں کی، دیکھ جاناں جل گیا

—————————————

غزل

سکوں کبھی بھی نہیں بزمِ کامرانی میں

مسافتیں نہیں طے ہوتیں لامکانی میں

دلوں میں نور ہے، ترسیلِ گوشِ کر بھی ہو

پیام جاتے نہیں طرزِ لن ترانی میں

میں ہوں فدائے خمارِ علی الصباحی اب

کوئی نہ لطف بچا جامِ ارغوانی میں

خودی ہمیشہ مقابل رہی ہے طوفاں کی

یقین اس کو نہیں باد و بادبانی میں

غرور و زعمِ تجاہل تمھیں مٹا دے گا

فلک گزیدہ بہت دیکھے خوش گمانی میں

جہاں سنی تھی کبھی داستانِ فریادی

کوئی نفاق نشستہ ہے بے زبانی میں

کرو نہ بات یہاں بیدل و جمعیت کی

زماں کا فرق ہے اس نطق میں، معانی میں

کہے ہے آہنِ دل گشتہ حرفِ شیریں جو

حضورِ ذہن سے سمجھیں گے کم لسانی میں

—————————————

غزل

نظر تمھاری نہیں گر کسی اشارت پر

تو گم رہو گے، رہے پردہ اس عبارت پر

تلاشتے ہو جسے مسجدوں میں، معبد میں

وہ منتظر ہے ترا اک درِ بصارت پر

نہ جانے کتنے درِ لامکان کھل جائیں

اگر جو چل پڑے وجداں رہِ جسارت پر

نگاہِ ناز کو کیا چاہئے؟ شہودِ لقا

وہ منتظر ہے تمھارا درِ زیارت پر

کوئی تو ہو جو مرا واسطہ ہو منزل تک

کوئی ہو رہبرِ وجداں مری سفارت پر

تلاش میں ہیں نگاہ و شعور ہر لحظہ

کہ ہو مشیّت و اذنِ لقا اشارت پر

دمِ امید و تحیّر بجھی بجھی سی ہے

کوئی شکست و جَزَر لائے کچھ حرارت پر

تہِ وجود میں پنہاں کہیں تو رہتی ہے

امیدِ ختمِ ضلالت کسی بشارت پر

پڑھو حدیقۂ عرفاں کبھی سنائی کا

اگر ہے جرأتِ نوشِ مئے مَرارت پر

کہاں ہے آہنِ گم گشتۂ نحوست سُن

مٹا نجس یہ تمتّع کا جا طہارت پر

—————————————

غزل

مشقِ سخن بھی جاری ہے خونِ جگر کے ساتھ

احساس و نُطق و معنی کے شیٖر و شکر کے ساتھ

اک انتہائے شوق ہے اور اک ہجومِ آز

گزرے ہیں کاروان، اسی رہ گزر کے ساتھ

ہوتے ہیں مٗو سفید بھی غرقِ تَعِیُّشات

رشکِ جواں بھی دیکھے ہیں، رشکِ قمر کے ساتھ

ہم ہیں کہ روز دیکھتے انبوہِ مرگ و میر

اک بے بسی میں چشم گشا، چشمِ تر کے ساتھ

مجبوریٔ حیات بھی مانندِ ِمہر و ماہ

ہیں پیروِ نقوشِ کشیدہ، اگر کے ساتھ

ہم ہیں شہِ زمانہ لباسِ دریدہ میں

دستِ زماں گدائی میں ہے سیم و زر کے ساتھ

ہم ہیں نشینِ خانۂِ اجداد میں، مگر

اک ہولِ دل نشستہ ہے تیرِ مَفَر کے ساتھ

معنی و صَوت ہیں کہ جو رکھتے دمِ بقا

مٹتے ہیں کاخ و قصر بھی سب کرّّ و فَر کے ساتھ

دیکھے بتانِ آزری، رشکِ قمر، قصور

دل ہے ہُوا اُسی کا جو آئے اثر کے ساتھ

ہے کاروانِ قدسیِ حرفِ ازل رواں

سب جہل و ظلم و ظلمت و زیر و زبر کے ساتھ

معنی ترے کلام میں کیوں بس نہ جائے، جب

حرف و حدیثِ امجدی، اترے نظر کے ساتھ

آہن سکون دل میں ہے، پھرتا یہاں وہاں

سارے نشور و گردش و دورِ قمر کے ساتھ

کوئی تبصرہ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے