شہرام سرمدی کی کتاب حواشی پر غضنفر علی کا تبصرہ


اردو نظم کی خوبصورتی اس میں ہے کہ اس سے دھنک پھوٹتی ہے۔ اس کا ہر رنگ اپنے اندر ایک مخصوص نور رکھتا ہے جو بعض دیدوں کو اپنا مسکن بنا لیتا ہے اور وہاں سے منعکس ہوتا رہتا ہے ۔کون سا رنگ زیادہ اچھا ہے یا کس رنگ کانور بہتر ہے یہ کہنا آسان نہیں بلکہ مشکل ہے البتہ کوئی رنگ زیادہ شوخ اور کم شوخ ہو سکتا ہے مگر یہاں بھی یہ فیصلہ صادر نہی کیا جا سکتا کہ کون زیادہ اہم ہے: شوخ رنگ یا غیر شوخ رنگ ؟
کہ دونوں طرح کے شیڈس کو پسند کرنے والے
موجود ہیں ,ایسے میں کسی فن پارے کی قدر وقیمت کا تعین کیسے کیا جا ۓ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔میرے خیال سے یہ دیکھنا چاہییے کہ کسی رنگ کا انعکاس کس طرح کیا گیا ہے۔اگر رنگ و نور کے انعکاس میں زاویے بھی دھنک بناتے ہیں تو دھنک بنانے والے زاویے نگاہوں کو دیر تک اپنے اوپر مرکوز کیے رہ سکتے ہیں
اور اس رنگ سے پھوٹنے والی شعاعیں ذہن و دل میں سما کر رگ و ریشے میں لطف و انبساط کی زیادہ لہریں پیدا کر سکتی ہیں
اس اعتبار سے حواشی کی نظمیں لائقِ توجہ ثابت ہوتی ہیں ۔
حواشی کے حاشیہ نگار شہرام سرمدی نے
اپنی بیشتر نظموں میں اپنے رنگوں کے انعکاس کے زاویے تبدیل کیے ہیں جن کے باعث معنوی شعاعیں منفرد دکھائی دیتی ہیں اور نگاہوں کو دیر تک اپنے پاس روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔
شہرام سر مدی نے اپنی بعض تخلیقات میں
سر مدی آہنگ بھی بھر دیا ہے جو اپنا معنی تو پوری طرح منعکس نہیں کرتا مگر سماعت میں سُر ضرور بھر دیتا ہے اور وہ سُر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ طبیعتوں میں رقص کی سی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔
حواشی عنوان رکھنے کا جواز میری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ اس کتاب میں متن کے علاوہ بھی بہت کچھ کہا گیا ہے جن کے اظہار کے لیے حواشی کی ضرورت پڑتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرہ نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے